Hazrat Mohammad (PBUH ShahinShahe Aalam

16 Jan

ذرّہ نا چیز(انسان ) کی بقا و دوام کا راز

6 Sep

Everlasting

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓذرّہ نا چیز(انسان ) کی بقا و دوام کا راز
محمد رفیق اعتصامی
ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ)’’اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے درمیان ہے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے‘‘(الحجر پ۱۴) مقصد یہ ہے کہ کائنات اور اسکی تما م چیزیں بتقاضائے حکمت پیدا کی گئی ہیں اور کوئی چیز حتی کہ ایک ذرہ بھی بے کار پیدا نہیں کیا گیا اور ہر چیز حق کے ساتھ قائم ہے کیونکہ بغیر کسی ضرورت اور مقصد کے نہ تو کوئی چیز بنائی جاتی ہے اور نہ ہی ایجاد کی جاتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایجاد اس مقصد کو پورا نہ کرے جس کیلئے اسے بنایا گیا ہے تو وہ عملاً بے کار ثابت ہوتی ہے اور اسکی حیثیّت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اسکا وجو د اور اسکی تخلیق کا محرّک ہی ضرورت ہے اگر ضرورت نہ ہوتی تو ایجاد کبھی نہ ہوتی وہ ضرورت اس ایجاد کیلئے گویا ایک محل (ٹھہرنے کی جگہ) اور مستقر(قرار پکڑنے کی جگہ) ہے کہ جس سے اس ایجاد کا وجودقائم ہے۔
اس بات کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’کائنات کی ہر چیز اور ہر ذرّہ حق کے ساتھ وجود میں آیا ہے اور اس حق کے ساتھ(یعنی اپنے مقصدتخلیق کو پورا کرنے میں ) ہی اس ذرّہ کی بقا ہے اور اگر حق سے ذرّے کا تعلّق ختم ہو جائے (یعنی اپنے مقصد کو پورانہ کرے) تو وہ ذرّہ بھی ختم ہو جاتا ہے‘‘۔
’’حق اور ذرّہ‘‘ کی مختصر تشریح یہ ہے کہ ذرّہ سے مرادوہ تمام اشیاء ہیں جنھیں کسی خاص مقصد کے تحت تخلیق یا ایجاد کیا گیا ہے یعنی ایک اکائی، فرداور مخلوق اور ’’حق‘‘ سے مراد انکا مقصد تخلیق ہے۔یعنی کوئی چیز بھی ہو جاندار یا بے جان، اسے جس مقصد کیلئے بنایا گیا ہے اسے پورا کرنا اسکا حق ہے اور اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس مقصد کو پورا کرے اور اگر ایسا نہیں ہوگااوراس چیز کا تعلق اپنے ’’حق‘‘ سے ٹوٹے گا تو وہ چیز بے کار ثابت ہو گی اور ختم ہو جائے گی۔
یہ بات اگرچہ باآسانی سمجھ میں آتی ہے مگر پیش نظر مضمون میں اسے ایک تکنیکی مثال ’’دودو کے نظام‘‘ سے واضح کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو کہ فرد مطلق، واحداور وتر ہے اپنی ذات سے تنہا قائم و دائم ہے اور اپنے قیام و بقا میں کسی اور کا محتاج نہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ آُُ پ فرما دیجئے وہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اسکی برابری کرنے والا ہے‘‘۔(الاخلاص پ۳۰) اوراللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا جتنی بھی مخلوقات ہے وہ کم از کم دو اشیاء یا دو اکایوں (روح اور جسم )سے ملکر وجود میں آئی ہے ۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ وہی اللہ ہے جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے‘‘(الزخرف پ۲۵) اور فرمایا’’ تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں‘‘(۵۱۔۴۹) جوڑے کو عربی زبان میں زوج کہا جاتا ہے لغت کے مطابق زوج کا معنی ایک شئی کا دوسری کے ساتھ ملنا اور مرکب ہونا ہے، جن حیوانات میں نر و مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج ہے ان آیات میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض، مادہ و صورت میں مرکب ہیں نیز ذات باری تعالیٰ فرد مطلق ہے علاوہ ازیں روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں۔( المنجدو مفردات القرآن از امام راغب اصفہانی)
ازواج کے با ہم مرکّب ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ یا تو ایک شئی کی بقا کا دارو مدار د اپنے دوسرے حصّے کے ساتھ ہوتاہے یا دونوں ملکر ہی کوئی مقصد پورا کرتے ہیں یا کوئی نئی شے وجود میں آتی ہے۔مثلاً نر جب مادہ سے ملتا ہے تو افزائش نسل ہوتی ہے، اسی طرح بے جان اشیاء جب ایک دوسرے سے مرکب ہوتی ہیں یا جوڑ کھاتی ہیں تب کوئی نئی شئی بنتی ہے۔
مثلاً کسی بھی مشینری کو لیجئے اسکا ہر پرزہ دوسرے سے مربوط اور پیوستہ ہوتا ہے اس طرح باہم جڑنے سے ہی مشینری وجود میں آتی ہے، پھر ہر مشینری اپنی باڈی میں فٹ ہوتی ہے مشینری بغیر باڈی یا باڈی بغیر مشینری (انجن )کے بے کار محض ہے مثلاًموٹر سائکل، کار ، بس یا ہوائی جہاز کی باڈی وغیرہ،یہ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ اسی طرح ایک چیز میں ’’ دو کا نظام‘‘ موجود ہے۔
مثال کے طور پر روح اور جسم، مادہ و صورت، جوہر و عرض وغیرہ، بلکہ دنیا کی پیدائش بھی دو چیزوں یعنی زمین و آسمان کے ملاپ سے وجود میں آئی چنانچہ فرمان الٰہی ہے(ترجمہ)’’اور اللہ نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ گاڑ دئے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں رہنے والوں کی غذاؤں کی تجویز اس میں کر دی چار دن میں ضرورت مندوں کیلئے یکساں طور پر پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا وہ دہواں سا تھا پس اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا تم دونوں خوشی سے آؤ یا نا رضا مندی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں‘‘۔(حم السجدہ پ۲۴)
تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ ان دونوں(آسمان و زمین)کے ملاپ سے دنیا بسائے خواہ اپنی طبیعت سے ملیں یعنی اپنی رضا مندی سے یا زبردستی کرنے سے بہر حال دونوں کو ملا کر ایک نظام بنانا تھا اور دنیا بسانی تھی۔ وہ دونوں آ ملے اپنی رضا مندی سے، آسمان سے سورج کی شعا آئی، گرمی پڑی ہوائیں اٹھیں ان سے گرد و بھاپ اوپر چڑھی پھر پانی ہو کر مینہ برسا جس سے زمین سے طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوئیں۔(تفسیر القرآن از علاّمہ شبّیر احمد عثمانی)
لہٰذا آپ جہاں بھی نظر دوڑائیں گے اور جس چیز کو بھی چیک کریں گے اس میں’’دو‘‘ کا نظام موجود پائیں گے اس حیثیّت سے کہ اگر ایک نہ ہوگا تو دوسرا بھی نہ ہوگا جب دو چیزیں یا دو اکائیاں آپس میں ملیں گی تو’’ ایک چیز‘‘ وجود میں آئے گی جیسے روح اور جسم کی مثال ہے۔
اس دو دو کے نظام کو بیان کرنے کا اصل مقصد ضرورت و ایجاد کے مفہوم کو واضح کرنا ہے یہ دو اکائیاں یا دو حصّے گویا ’’روح اور جسم‘‘ ہیں اور ایک کا وجود دوسرے کیلئے حق اور اٹل ہے کہ اگر صرف ضرورت ہوگی اور ایجاد نہ ہوگی تو ضرورت پوری ہو نہیں سکتی اور اگر ایجاد تو ہو مگر وہ اپنی ضرورت کو پورا نہ کرے تو وہ بے کار محض ہے اور کسی کباڑ خانے میں پھینک دینے کے قابل ہے۔
بعینہ یہی صورت حال انسا ن کی ہے اور اس مضمون میں ایک اکائی یا ذرّہ سے خاص طور پر انسان مراد ہے اور ’’حق‘‘ سے مرا د اسکا مقصد حیات ہے جو عبادت خداوندی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ میں نے جنّون اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں اللہ تبارک و تعالیٰ ہے رزق دینے والا زور آور اور غالب‘‘۔()
دنیا میں عبادت کے بہت سے طریقے رائج ہیں کچھ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں تو کچھ لوگ آگ کو اپنا خدا اور حاجت روا جانتے ہیں، مگر عبادت وہ قابل قبول ہے جو دین اسلام کے مطابق کی جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ شخص روز آخرت خسارہ پانے والوں میں ہو گا‘‘۔
لہٰذا انسان کو ایک ضرورت (عبادت خداوندی) کے تحت تخلیق کیا گیا ہے اور عبادت و انسان گویا روح اور جسم کی مثال ہیں کہ اگر ایک نہ ہوگا تو دوسرا بھی نہ ہوگا۔یعنی انسان تو ہے مگر وہ اپنے مقصد حیات کو پورا نہیں کرتا تو وہ یقینی طور پر ختم ہو گا اور ختم ہونے سے مراد یہ نہیں کہ وہ مر جائے گا بلکہ جب وہ اپنی طبعی عمر گذارے کے بعد اس دنیا سے جائے گا تو اسے وہاں ایک ایسی زندگی کا سامنا کرنا پڑے گا جو موت سے زیادہ بد تر اور تکلیف دہ ہوگی وہ موت کی تمنا کرے گا تا کہ اس صورت حال سے جان چھوٹ جائے مگر موت نہیں آئے گی۔ اس کے بر عکس جو لوگ دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کریں گے انھیں موت کے بعد حیات دائمی عطا ہو گی اور ایسی ایسی نعمتیں دی جائیں گی جس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس ذرّہ نا چیز (انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی ہستی کی بقا و دوام کیلئے اپنے آپ کو اپنے ’’حق‘‘ دین اسلام سے وابستہ رکھے اور اپنے مالک حقیقی کی عبادت میں کسی قسم کی کمی کوتاہی نہ کرے۔

Satan Iblis delivers a Speech

26 May

Satan Iblis delivers a Speech

4 May

iblees satan

By Mohammad Rafique Etesame
Allah Almighty Says in the Holy Qur’an,” And We created you, then fashioned you, then told the angels, fall ye prostrate before Adam! And they fell prostrate, all save Iblis, who was not of those who make prostration. He said: What hindered thee that thou didst not fall prostrate when I bad thee? (Iblis) said I am better than him. Thou created me of fire while him Thou didst create of mud.
He said then go down hence! It is not for thee to show pride here, so go forth! Lo! Thou art of those degraded.
He said: Reprieve me till the day when they are raised. (from the dead).
He said: Lo! Thou art of those reprieved. He said: Now, because thou hast sent me astray, verily I shall lurk in ambush for then and Thy Right Path.
Then I shall come upon them from before them and from behind them and from their right hands and from their left hands, and thou wilt not find most of them beholden (unto Thee).
He said: Go forth from hence, degraded, banished. As for such of them as follow thee, surely I will fill hell with all of You”. (Al-A’raf: 18)
Because of this, there falls enmity between human being and Satan. He tries his best to mislead everyone from the right path i.e Deen-e-Islam. Anyone who wants to accept Islam and act upon its teachings, and then he creates difficulties in his way. The holy Prophet (PBUH) said that Satan circulated into human being like blood (Al-Mishkat). For example, those who worship Idols don’t see it wrong. They make them by their own hands by stones and then give them the status of gods and believe that they give to their worshipper whatever they want and save them from the miserable condition.
Similarly, they who worship fire, believe the ruler ship of two gods in the universe i.e. god of virtue (Yazdan), and god of evil (Ahrman). The question is: if these people consider their dogmas and deeds incorrect, then they surely set them aside but Satan whispered that their religion and the religion of their ancestors is quite right.
Usually, all the bad works we do, we make Satan responsible for them and say that he misled us and we committed the sins. If a believer does not offer prayers or not keep fasting and does not pay the poor-due and commits adultery etc. He makes Satan responsible for it.
But it is strange that he will free himself from all the allegations made by human being. According to the “Mufassereen” (Commentators) when the matter will be decided at the Day of Resurrection and those of Paradise, would have been entered in it, and those of the Hell, would have been entered in it. Then the dwellers of the Hell will say to Satan,” Because of obeying you, we entered in the Hell, so find any method or make recommendation to Allah Almighty for us so that we may get rid of this painful doom”. Then Satan will make a speech before them saying that he only whispered the evil temptation in their hearts and they obeyed him and committed all the sins by their own will and authority so there is no blame for Satan. The holy Qur’an reveals,” And Satan saith, when the matter hath been decided: Lo! Allah promised you a promise of truth, and I promised you, and then failed you. And I had no power over you save I called unto you and ye obeyed me. So blame me not, but blame yourselves. I cannot help you, nor can ye help me. Lo! I disbelieved in that which ye before ascribed to me. Lo! For wrong doers is a painful doom” (Ibramim:22).
So, at the Day of Resurrection, everyone will get the reward of his own good or bad works and Satan will not be responsible for them at any rate. Because Allah Almighty Has inspired in the soul of mankind what is wrong and what is right for him as the holy Qur’an reveals,” And a soul Him Who perfected it.
And inspired it (with conscience of) what is wrong for it and (What is) right for it.
He is indeed successful who causeth it to grow.
And he is indeed a failure who stunteth it” (Ash-Shams:10). The accountability at the Day of Resurrection will be held on the basis of his deeds not on mere the whispering of Satan. It is the time now for us to check our works whether they are according to the light of Shariah or according to the whispering and misleading of Satan?

 

Video

Shaitan Iblees ka Khitab

28 Mar

Respected Viewers! this speech reveals that Satan Iblees is the unseen enemy of human being. He misleads human being for all time. To become safe from his misleading, it is necessary to seek refugee from Allah Almighty and to act upon His commands.

Video

Namaz-e-Juma Ke Fazael

24 Mar

Respected viewers! This Speech reveals the great reward for the offering of Namaz-e-Juma. The Holy Prophet Mohammad (PBUH) said that Allah Almighty Forgives all the sins of the Muslim believer who offer Namaz-e-Juma. Must watch. Thanks.

How can we recognize God?

18 Jun

allah-wallpapers-2-150x150

Mohammad Rafique Etesame

These verses reveal the purpose of life of human being and that is worship of Allah Almighty and He is responsible for their daily bread and other needs of life. He sent His Holly Messengers (Peace and mercy of Allah be upon them) to guide them how to worship? They established the good example by acting upon the commands of Allah Almighty and lead the human beings to the way of salvation i.e.  the religion of Islam.  Now it is necessary for any one who wants to be successful in real, should follow the teachings of Islam.

Here the question arises , how can we recognize Allah Almighty because He is invisible and no one can feel His existence? So there are two ways for this purpose:-

(1)    Foresight and considering in the horizontal signs

(2)    Foresight and considering in the signs of ‘Nafs’ (soul).

The Holy Qur’an reveals,” We shall show them our portents on the horizon and within themselves until it will be manifest unto them that it is the truth. Doth not thy Lord suffice, since He is Witness over all things?” (Fusilat:53)

  It means that one should consider in the creation of the universe, the skies, the Earth, the Sun, the Moon, the stars, the Planets and how can they move etc. The Holy Qur’an reveals,”Lo! In the creation of the heavens and the earth, and the difference of night and day, and the ships which run upon the sea with that which is of use to man, and the water which Allah sendeth down from sky, there by reviving the earth after its death, and dispersing all kinds of beasts therein, and (in) the ordinance of the winds, and the clouds obedient between heaven and earth: are signs (of Allah’s  sovereignty) for people who have sense. “(Al-Baqarah:164)

 We see that the Sun arises from the East and sets in the West for centuries. It has not been occurred so for that the Sun arises sometimes from the west or from the South or the North rather than the East. Similarly, we see that the Sun or the Moon never knock with each other or the stars, moving in the sky ,despite innumerous and  the Planets, don’t  knock with one another. Reason is that Allah Almighty Has fixed their ways for motion as the Holy Qur’an reveals,”And the sun runneth on unto a resting place for him. That is the measuring of the Mighty, the Wise. And for the moon We have appointed mansions till she return like an old shriveled palm-leaf. It is not for the sun to overtake the moon, nor doth the night outstrip the day. They float each in an orbit.” (Yassen:40)

These are some horizontal signs and as regards the signs in the “nafs” so the Holy Prophet (PBUH) said that one who recognized himself, could recognize Allah Almighty.  It means he should consider over his reality that how he was created, and remained in the womb of mother for a fixed period, then he delivered and was a small child, then he became young and strong, and then he became old. The Holy Qur’an reveals,” Hath there come upon man (ever) any period of time in which he was a thing unremembered? Lo! We create man from a drop of thickened fluid to test him; so We make him hearing, knowing.” (Ad-dahar:2)

So, in order to become successful Bothe in this world and in the Hereafter, the man should recognize God considering  the above mentioned signs and act upon the teachings of Islam.